رسائی کے لنکس

بھارت کی میزبانی میں افغان کانفرنس:’نئی دہلی کابل میں اپنا کردار تلاش کر رہا ہے‘


بھارت کے نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے زیرِ اہتمام نئی دہلی میں افغانستان کے معاملے پر علاقائی سلامتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کی۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے کسی نمائندے کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جب کہ پاکستان اور چین نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

کانفرنس میں بھارت کے علاوہ سات ممالک ایران، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرس میں اپنے افتتاحی کلمات میں بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول نے کہا کہ افغانستان کی صورتِ حال کے نہ صرف افغان عوام بلکہ ہمسایہ ممالک اور خطے پر بھی بہت اہم اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انھوں نے افغان عوام کی مدد اور اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہمسایہ ملکوں کے درمیان جامع مشاورت، تعاون اور رابطے پر زور دیا۔

اجیت ڈوول نے کہا کہ 2018 میں ایران کی پہل کے بعد افغان عمل کے سلسلے میں یہ تیسرا اجلاس ہے۔ ہم اس کے لیے ایران کے ممنون ہیں۔

ان کے بقول اس افغان عمل کا تصور پیش کرنے والے روس اور تمام وسطی ایشیائی ممالک کی میزبانی کرنا بھارت کے لیے اعزاز ہے۔

طالبان کے بھارت سے رابطوں کو پاکستان کیسے دیکھتا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:29 0:00

مشترکہ اعلامیہ

اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں افغانستان کی صورت حال اور خطے پر پڑنے والے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے اعلامیے کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں طالبان حکومت پر تنقید نہیں کی گئی۔ تاہم ایک جامع اور نمائندہ حکومت کے قیام پر زور دیا گیا۔

کانفرنس کے اعلامیے میں علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور افغانستان کے اندرونی امور میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کی گئی۔

اس کے علاوہ افغان عوام کی مشکلات پر اظہارِ تشویش کیا گیا اور قندوز، کابل اور قندھار میں دہشت گرد حملوں کی مذمت بھی کی گئی۔

اعلامیے میں افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں، دہشت گردوں کی تربیت اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال نہ کیے جانے پر زور دیا گیا۔

کانفرنس کے شرکا نے افغانستان میں خواتین، بچوں اور اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ افغانستان کے عوام کے لیے بلا تعطل انسانی امداد پر بھی زور دیا۔

’بھارت افغانستان میں اپنا کردار تلاش کر رہا ہے‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

طالبان سے تعلقات، کیا بھارتی حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:25 0:00

اس لیے طالبان کے کسی نمائندے کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ البتہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کےقیام کے بعد وہاں روس اور ایران کے سفارت خانے اپنا کام کر رہے ہیں۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام سے قبل بھارت نے باضابطہ طور پر اور عوامی اعلان کے ساتھ طالبان سے رابطہ قائم نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب جب کہ حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کو طالبان حکومت کا عبوری وزیر داخلہ بنایا گیا ہے تو بھارت کو افغانستان کے معاملے میں تنہائی کا احساس ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس کانفرنس کی مدد سے افغانستان کے مستقبل سے متعلق کسی ممکنہ فیصلہ سازی میں اپنا کردار تلاش کر رہا ہے۔

چین اور پاکستان کی عدم شرکت

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر ذاکر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت اہمیت اس کی نہیں ہے کہ دہلی کانفرنس میں پاکستان اور چین کی عدم شرکت سے اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ افغانستان کے معاملے میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور وہ افغانستان میں کیسے ایک پوزیشن حاصل کرے گا۔

ان کے بقول اگر بھارت طالبان کو مسترد کر دیتا ہے اور افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے۔ دہشت گردی بڑھتی ہے یا عدم استحکام آتا ہے تو اس سے بھارت کی پریشانی میں اضافہ ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف بھارت کا کہنا ہے کہ افغانستان سے اس کے دوستانہ رشتے ہیں اور دوسری طرف وہاں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔

ذاکر حسین نے کہا کہ بھارت طالبان سے بات بھی کر رہا ہے اور دنیا کو دکھانے کے لیے طالبان کی حکومت کو تسلیم بھی نہیں کر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت بنے۔ اگر طالبان ایسی حکومت بناتے ہیں تو بھارت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت خطے کا ایک بڑا ملک ہے اور اسے نظر انداز کر کے علاقے میں امن و استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔

دیگر ممالک کی کوششیں

تجزیہ کار ذاکر حسین کے مطابق ابھی تک افغانستان کے معاملے پر امریکہ، روس، ترکی اور جرمنی جیسے ملک کوششیں کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب بھارت، پاکستان اور چین کام کر رہے ہیں اور وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ کیوں کہ وہاں کے حالات سے یہی ملک متاثر ہوں گے اور حالات بہتر ہوتے ہیں تو فائدہ بھی انہی ممالک کو ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے دہلی کانفرنس میں شرکت سے اس لیے انکار کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں بھارت افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بھارت کی ساکھ امریکہ کے حامی ملک کی بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

بھارت کا مخمصہ

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت مخمصے میں ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ وہ طالبان سے بات بھی کر رہا ہے اور اسے تسلیم بھی نہیں کر رہا ہے۔ بھارت کے سامنے دو مسئلے ہیں۔ ایک یہ کہ طالبان جامع اور نمائندہ حکومت بنائیں اور دوسرا افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔

اس کے علاوہ بھارت نے افغانستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کی اس کی کوششیں بے کار چلی جائیں۔

’ماضی سے مختلف‘

بعض دیگر مبصرین کے مطابق دہلی کانفرنس کو اس سے قبل افغانستان پر ہونے والی ہرٹ آف ایشیا کانفرنس یا ماسکو فارمیٹ سے الگ کر کے دیکھنا اہم ہو گا۔ کیوں کہ یہ کانفرنس نہ تو سفارتی سطح پر ہوئی اور نہ ہی وزرائے خارجہ کی سطح پر، بلکہ اس میں قومی سلامتی کے مشیروں نے حصہ لیا۔

خیال رہے کہ امریکہ کے اپنی افواج کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کے بعد 2018 میں اس نوعیت کے مذاکرات کا تصور پیش کیا گیا۔ گزشتہ سال ستمبر میں ایران میں قومی سلامتی کے مشیروں کا پہلا اجلاس ہوا تھا۔ اس میں افغانستان، چین، ایران، روس اور بھارت نے شرکت کی تھی۔

دوسرا اجلاس دسمبر 2019 میں دوبارہ ایران میں ہوا جس میں سات ملکوں نے حصہ لیا تھا۔ پاکستان نے ان دونوں اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی۔

اس بار بھی پاکستان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوا ہے۔ کچھ دن قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اعلان کیا تھا کہ وہ دہلی کانفرنس میں حصہ نہیں لیں گے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG