رسائی کے لنکس

logo-print

عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار جاری ہے، جسٹس فائز عیسیٰ


فائل فوٹو

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ سچ بولتے رہیں گے۔ چاہے کسی کو بُرا ہی کیوں نہ لگے۔ انہیں آئندہ تین سال تک بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف عدلیہ کی عزت و وقار بحال کرانا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اپنے خلاف دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نظرِ ثانی درخواست کی سماعت کے دوران براہ راست کوریج کی متفرق درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے وکیل منیر اے ملک کی عدم موجودگی میں دلائل دیے۔

قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے سپریم کورٹ کی کارروائی کی براہِ راست میڈیا پر کوریج کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ براہِ راست کوریج سے عدالتی وقار میں کمی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی تیکنیکی نوعیت کی ہوتی ہے جو عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔ کورٹ رپورٹرز آسان زبان میں کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں۔ ججز کے کنڈکٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں ہو سکتی۔ براہِ راست کوریج سے ججز کے کنڈکٹ پر عوامی سطح پر بحث ہو گی جس سے ججز عوامی سطح پر مقبول اور شناخت ہو سکیں گے جس سے خدشہ ہے فیصلے قانونی نہیں مقبولیت پر مبنی ہوں گے۔

انہوں نے امریکہ کی ریاست فلوریڈا کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلوریڈا کی عدالت نے ٹرائل کی براہِ راست کوریج کی مخالفت کی۔ امریکی عدالت نے قرار دیا میڈیا اور عام آدمی کے حقوق برابر ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

سرینا عیسیٰ کے دلائل

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بھی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے کبھی تصویر نہیں بنی تھی لیکن اب عدالت آنے جانے پر میری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔

سرینا عیسیٰ نے کہا کہ اپنی رقم سے خریدی گئی جائیداد بقول ان کے راتوں رات میرے شوہر کی بنا دی گئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ اس وقت سماعت کی براہِ راست نشریات کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔

'عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی'

جسٹس فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک دشمنوں کے خلاف ففتھ جنریشن وار نہیں ہو رہی بلکہ بقول ان کے عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی ہے۔ ان کے الفاظ میں سوشل میڈیا بریگیڈ منہ چھپا کر حملے کر رہی ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ میری بات براہِ راست سنیں۔ میری گفتگو کا مکمل حصہ میڈیا رپورٹ نہیں کرتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)

جسٹس فائز نے کہا کہ میرے خلاف یوٹیوب پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، میں خود یوٹیوب چینل نہیں بنا سکتا ہے اس لیے عدالت میں کھڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرے نام سے بقول ان کے تین جعلی ٹوئٹر اکاونٹس بنے ہوئے ہیں۔ تین بار خط لکھ چکا میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں لیکن یہ اکاؤنٹ بند نہیں ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ "مجھے مزید تین سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے۔"

کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

مئی 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے تھے۔ ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں سات اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا اور 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG