رسائی کے لنکس

خارجہ امور کا معاملہ اتنا پریشان کُن نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے: خواجہ آصف


وزیر خارجہ نے پاکستان سے متعلق چین کے مؤقف کے حوالے سے ’برکس اعلامیہ‘ کی اہمیت اور سفارتی حکمت عملی پر تحریک التوا پر ایوان کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے جن کالعدم تنظیموں پر پابندی عائد کی وہی ہماری پالیسی ہے

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سینیٹ کو بتایا کہ سفارتی طور پر پاکستان تنہا نہیں، اور امریکی صدر کی تقریر کے بعد ہماری سفارتی پوزیشن پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔

خواجہ آصف سینیٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور موجودہ سفارتی صورتحال کے حوالے سے سینیٹ میں خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت ہوا۔

وزیر خارجہ نے پاکستان سے متعلق چین کے مؤقف کے حوالے سے برکس اعلامیہ کی اہمیت اور سفارتی حکمت عملی پر تحریک التوا پر ایوان کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے جن کالعدم تنظیموں پر پابندی عائد کی وہی ہماری پالیسی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ برکس کا پاکستان کے حوالے سے اعلامیہ 4 ستمبر کو سامنے آیا اور اسی کے تحت ہم نے عید الضحیٰ کے موقع پر کالعدم تنظیموں پر کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران، سعودی عرب اور ترکی سمیت ہمارے تمام اتحادی ہمارے ساتھ پہلے کی طرح کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’برکس اعلامیہ‘ سے زیادہ سخت اعلامیہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کا تھا جس پر پاکستان نے دستخط کیے تھے، چین کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے وہ پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ برکس اعلامیہ میں جن دہشت گرد تنطیموں کا نام لیا گیا وہ نئی بات نہیں۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں زیادہ سخت الفاظ اور زیادہ تنظیموں کے نام تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد برکس اعلامیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

دورانِ اجلاس، حال ہی میں پانامہ طرز پر آنے والی ’پیراڈائز لیکس‘ پر طنزیہ جملہ بازی ہوئی۔

خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا نام لیا تو چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بولے، ’’وہ تو پیراڈائز میں ہیں جس پر خواجہ آصف نے جواباً کہا کہ ٹرمپ کے اور بھی ساتھی پیراڈائز میں ہیں۔ ہر کوئی پیراڈائز میں جانا چاہتا ہے۔ بہت سے پاکستانی بھی پیراڈائز میں ہیں‘‘۔

خواجہ آصف کے طنزیہ جواب پر چیئرمین سینٹ سے کہا کہ ’’آپ کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم بھی پیراڈائز میں جا بسے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG