رسائی کے لنکس

بلوچستان میں صحافت کرنا مشکل کیوں ہو گیا ہے؟


پابندیوں کے خلاف صحافیوں کا احتجاج (فائل)

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں اتوار کو ایک بم حملے میں ہلاک صحافی شاہد زہری کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس ابتدائی تحقیقات میں ملزمان تک پہنچنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔ اس کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ اور کالعدم قرار دی گئی ’بلوچ لبریشن آرمی‘ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان ایک بیان میں قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مقتول صحافی کو فوج کا آلہ کار قرار دیا تھا۔ بیان میں شاہد زہری پر سنگین الزامات بھی عائد کئے گئے تھے۔

شاہد زہری کے قریبی ساتھی اور صحافتی تنظیمیں ان الزامات کو بھونڈا قرار دے رہی ہیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور دیگر عالمی صحافتی اداروں کے بیان میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ قتل میں ملوث ملزمان کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بلوچستان میں دو درجن صحافی قتل

شاہد زہری بلوچستان میں قتل ہونے والے پہلے صحافی نہیں ہیں۔ پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دو درجن سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں جن میں کئی ایسے صحافی بھی ہیں جنہیں اغوا کے بعد قتل کیا گیا اور ان کی ناقابلِ شناخت لاشیں برآمد ہوئیں۔

ان کے مطابق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2010 کے بعد ان واقعات میں تیزی دیکھی گئی۔

ناصر زیدی کا کہنا تھا کہ حالیہ قابل مذمت واقعہ اس بات کی نشانی ہے کہ صوبے میں صحافیوں کو بقول ان کے ہدف بنا کر قتل کرنے کا سلسلہ اب بھی رُکا نہیں ہے۔

صحافی رہنما کہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے منظوری ملنے کے بعد بھی جرنلسٹس پروٹیکشن بل کو قانون کی شکل دیے جانے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قتل کی صوبائی اور وفاقی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔

بلوچستان میں صحافیوں کے لیے ذمہ داریاں ادا کرنا مشکل

مکران ڈویژن کے ضلعی پریس کلب کے عہدیداروں نے وائس آف امریکہ کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند برس سے ان کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق ایک جانب علیحدگی پسند اور شدت پسند عناصر کی دھمکیاں اور مطالبات ہیں کہ انہیں کوریج دی جائے۔ ان کے بیانات کو میڈیا میں جگہ دی جائے۔ جب کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد اب شدت پسند گروہوں کا نقطۂ نظر شائع نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں بھی ہیں جن کا واضح مگر غیر اعلانیہ دباؤ ہے کہ کس واقعے کی رپورٹنگ کی جائے اور کس واقعے کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر ظاہر ہی نہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ شاہد زہری کے قتل کے بعد بلوچستان میں صحافی مزید خوف کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بلوچستان میں صحافیوں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ماضی میں صحافیوں کی ہٹ لسٹ بھی جاری کی گئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل صوبے میں اخبارات کی ترسیل میں رکاوٹیں اور اخبار فروشوں کو بھی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اخبارات کا بائیکاٹ بھی کیا جا چکا ہے۔

’خطے میں تبدیلی پر علیحدگی پسند تنظیمیں اہمیت تسلیم کرانا چاہتی ہیں‘

’بلوچستان کونسل فار پیس اینڈ پالیسی‘ کے صدر ڈاکٹر میر سادات بلوچ کے خیال میں ہر علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیم یہ چاہتی ہے کہ اس کی پہنچ صحافیوں تک رہے۔ البتہ بعض گروہ لوگوں میں خوف رکھنا چاہتے ہیں۔ جو ایسی کارروائیاں کر کے اپنی اہمیت بتانا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان تنظیموں نے ایسے طریقۂ کار سے اجتناب کیا تھا۔

ڈاکٹر میر سادات بلوچ کے خیال میں خطے کی حالیہ صورتِ حال میں بلوچستان میں فعال علیحدگی پسند اور شدت پسند گروہوں کی مضبوطی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ایسے گروہ اب الرٹ ہوئے ہیں۔ ابھی وہ اس قدر مضبوط نہیں ہوئے جیسے آج سے ایک دہائی قبل تھے۔ اس وقت خضدار، پنجگور اور دیگر علاقوں میں اسکولوں میں قومی ترانہ پڑھنا اور پرچم لگانا بھی ممکن نہیں تھا۔

بلوچستان کے صحافی معاشی مشکلات کا شکار
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:31 0:00

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں تبدیلی کے اثرات میں ایسی تنظیمیں اپنی اہمیت تسلیم کرانا چاہتی ہیں البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مضبوط ہو گئی ہیں۔

ڈاکٹر میر سادات بلوچ نے کہا کہ حکومت کے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سے مذاکرات کے اعلان کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں ہوئی ہے۔ اگر مستقبل میں پیش رفت کے کوئی امکانات نظر آئیں تو اچھی بات ہے ۔ اگر اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی تو ایسے گروہ خود کو فعال کرکے پیش کریں گے۔

صوبے کی سیاسی صورتِ حال کے سیکیورٹی پر اثرات

ڈاکٹر میر سادات بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے میں اس وقت جو سیاسی صورتِ حال ہے جہاں صوبائی اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہے۔ حزبِ اختلاف کے ساتھ صوبے میں برسرِ اقتدار بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض اراکین کی بھی اس تحریک کو حمایت حاصل ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے یہ حالات ہوں تو ایسے میں سیکیورٹی صورتِ حال کو بہتر کرنے پر کیسے توجہ دی جا سکتی ہے۔

صحافیوں کا تحفظ اور میڈیا اداروں کے مالکان کی ذمہ داری

پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایک تنازع کا شکار علاقہ ہے جہاں حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا اداروں کے مالکان کو بھی صحافیوں کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اس خطے میں صحافت کی تربیت اور پھر اپنے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اور آلات فراہم کرنا ان کے اداروں کے مالکان کی بھی ذمہ داری ہے البتہ یہاں تو حال یہ ہے کہ مالکان صحافی ورکرز کو تنخواہیں اور ان کے جائز حقوق نہیں دے رہے۔ تو وہ کہاں سے جان کے تحفظ کے لیے کوئی اقدامات کریں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سب سے بڑی ذمہ داری حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ہے جو شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کا افسوس کا اظہار

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حب میں بم دھماکے میں مقامی صحافی شاہد زہری کے ہلاک ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے پولیس کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلی نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے اور شاہد زہری کے ورثا کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG