رسائی کے لنکس

logo-print

طلبہ یونین

بدھ 13 نومبر 2019

Calendar
نومبر, 2019
پير منگل بدھ جمعرات جمعه هفته اتوار
28 29 30 31 1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 1
فائل فوٹو

پاکستان کی سیاست اور میڈیا کے کئی بڑے نام ماضی میں طلبہ تنظیموں کے رہنما رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی صدر ضیاالحق نے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی تھی اور مبصرین اس اقدام کو سیاست کی نرسری ختم کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔

​وائس آف امریکہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ طلبہ سیاست سے پاکستان کو کیا ملا؟ پابندی سے فائدہ ہوا یا نقصان؟ اور ضیاالحق کے بعد آنے والی حکومتوں نے اس پابندی کو ختم کیوں نہیں کیا۔

اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی رہنما ندا کھوڑو سے خصوصی گفتگو پیش کی جا رہی ہے جنھوں نے چند دن پہلے سندھ اسمبلی میں طلبہ یونینز کے خاتمے کی قرارداد پیش کی اور اسے بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔

طلبہ یونینز پر پابندی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، ندا کھوڑو
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:32 0:00

سوال: طلبہ یونینز پر پابندی کو پینتیس سال ہو چکے ہیں۔ آپ کو ان پر پابندی اٹھانے کی قرارداد پیش کرنے کا خیال کیسے آیا؟

ندا کھوڑو: میں نے یہ قرارداد پیش کرنا اس لیے ضروری سمجھا کہ طلبہ یونینز پر پابندی کو پینتیس سال ہو گئے ہیں۔ انیس سو چوراسی میں اس وقت کی فوجی حکومت نے یہ پابندی لگائی تھی۔ میں پہلی بار اسمبلی کی رکن بنی ہوں اس لیے میں چاہتی ہوں کہ اہم معاملات کی جانب توجہ دلاؤں۔ یہ ہمارا بنیادی فرض ہے۔ ابھی چار نومبر کو طلبہ نے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا۔ سندھ حکومت کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس لیے مجھے خیال آیا کہ طلبہ یونینز پر پابندی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایسی قراردادیں پہلے بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں 2017 میں بھی ایسی قرارداد پیش کی گئی تھی۔ بلاول بھٹو بھی طلبہ یونینز پر پابندی اٹھانے کے حق میں ہیں۔ ہم دوسرے صوبوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن سندھ میں اس قرارداد کو محکمہ قانون کو بھیجا جا رہا ہے اور یہاں پابندی ختم کر دی جائے گی۔

سوال: کیا وفاق کی منظوری یا رضامندی کے بغیر طلبہ یونینز کو صرف سندھ میں بحال کیا جا سکتا ہے؟

ندا کھوڑو: اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن بہترین صورت یہی ہو گی کہ پورے پاکستان میں طلبہ یونینز بحال ہو جائیں۔ وفاق کیا چاہتا ہے اور دوسرے صوبوں کا کیا ردعمل ہے، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن سندھ حکومت انھیں بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے، چاہے اس کے لیے قانون سازی کرنی پڑی۔

سوال: پیپلز پارٹی کو ماضی میں وفاق میں حکومت مل چکی ہے۔ پھر اس نے طلبہ یونینز پر پابندی کیوں نہیں اٹھائی؟

ندا کھوڑو: بینظیر بھٹو جب 1988 میں وزیراعظم بنیں تب انھوں نے طلبہ یونینز پر پابندی اٹھائی تھی لیکن وہ زیادہ عرصے تک بحال نہیں رہ سکی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کچھ تکنیکی مسائل تھے اور وہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔

سوال: طلبہ یونینز پر جب پابندی لگائی گئی، تب آپ بہت کم عمر ہوں گی۔ آپ ان یونینز کے بارے میں کیسے جانتی ہیں؟

ندا کھوڑو: جی ہاں، اس وقت میں بہت چھوٹی تھی لیکن تھوڑی بہت تاریخ پڑھی ہوئی ہے۔ جیسے ہم جانتے ہیں کہ تحریک پاکستان میں بھی علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کا اہم کردار تھا۔ میں خود کسی طلبہ تنظیم کی رکن نہیں رہی لیکن میں جانتی ہوں کہ طلبہ یونینز نئی نسل کے لیے ٹریننگ گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں سے ذمے دار شہری نکلتے ہیں۔ وہاں تعمیری بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے اندر مہم چلائی جاتی ہے۔ پوری دنیا میں طلبہ یونینز ہیں۔ ان سے قائدانہ صلاحیتوں والے نوجوان سامنے آتے ہیں۔ ان کی بدولت طلبہ انتخابی عمل کے بارے میں آگاہ ہوتے ہیں اور اس کی اہمیت پہچانتے ہیں۔ طلبہ یونینز مسائل کو اجاگر کرتی ہیں اور ان کے حل کی جانب پیشرفت کرنا سکھاتی ہیں۔

سوال: طلبہ تنظیموں کے بارے میں شکایت کی جاتی ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے میں پڑ جاتی ہیں۔ کیا طلبہ یونینز کی بحالی سے تشدد کو فروغ نہیں ملے گا؟

ندا کھوڑو: طلبہ ماضی میں غلط کاموں میں استعمال ہوتے تھے۔ اس کا انحصار طلبہ پر بھی ہے اور جامعات پر بھی کہ وہاں کس طرح کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ طلبہ یونینز کو اچھے پلیٹ فارم کی طرح استعمال کیا جائے گا۔ میں نے قرارداد میں یہ بھی واضح کیا کہ طلبہ یونینز بحال کی جائیں تو تعلیمی اداروں کو ان کا ضابطہ اخلاق بھی طے کرنا چاہیے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ کیا جاسکے۔

سوال: نوجوان نسل کو تعلیم پر توجہ دینی چاہئیے۔ کیا سیاست میں دلچسپی سے ان کی تعلیم کا ہرج نہیں ہو گا؟

ندا کھوڑو: تعلیم پر تو بے شک توجہ دینی چاہیے لیکن مستقبل کے قائدین انہی طلبہ یونینز سے نکلیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی نئی نسل سے مستقبل کے بہترین رہنما مل سکتے ہیں۔ وہ ملک کا مستقبل ہیں۔ تعلیم کے ساتھ سیاسی معلومات بھی ہونی چاہئیے، دنیاداری کا علم ہونا چاہیے، ملک میں کیا ہو رہا ہے، یہ جاننا چاہیے۔ قائدانہ صلاحیت کے حصول کا آغاز کلاس روم سے ہوتا ہے لیکن کلاس روم سے باہر کی تربیت بھی درکار ہوتی ہے۔

سوال: طلبہ یونینز میں ہمیشہ لڑکے پیش پیش رہے ہیں۔ لڑکیوں نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ اگر پابندی اٹھائی گئی تو کیا آپ کے خیال میں تبدیلی آئے گی؟

ندا کھوڑو: پیپلز پارٹی ہمیشہ خواتین کو مواقع دینے پر یقین رکھتی ہے۔ بینظیر بھٹو وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی اسپیکر بھی ایک خاتون کو بنوایا۔ دنیا بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے کا شعور آ گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب طلبہ یونینز پر پابندی ختم ہو جائے گی تو لڑکیاں ان میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گی۔

Ameerul Azeem

پاکستان کی سیاست اور میڈیا کے کئی بڑے نام ماضی میں طلبہ تنظیموں کے رہنما رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی صدر ضیاالحق نے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی تھی اور مبصرین اس اقدام کو سیاست کی نرسری ختم کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔

​وائس آف امریکہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ طلبہ سیاست سے پاکستان کو کیا ملا؟ پابندی سے فائدہ ہوا یا نقصان؟ اور ضیاالحق کے بعد آنے والی حکومتوں نے اس پابندی کو ختم کیوں نہیں کیا۔

اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور سابق طالب علم رہنما امیر العظیم سے خصوصی گفتگو پیش کی جا رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ سیاست پر چند گھرانوں کی گرفت رہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:52 0:00


سوال: آپ سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ دور طالب علمی میں آپ نے کون سی طلبہ تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے کس سنہ میں کالج میں داخلہ لیا؟

امیر العظیم: میں نے 1980 میں کالج میں داخلہ لیا۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج سول لائنز سے بی ایس سی کیا۔ ریلوے روڈ میں یونین کے الیکشن ہوئے تو اسلامی جمعیت طلبہ کو ووٹ دیا۔ کچھ عرصہ مشاہدہ کرتا رہا، کتابیں پڑھتا رہا۔ ایف ایس سی کے بعد جمعیت کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ کوٹ لکھپت جیل سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کیا۔ 1988 تک جمعیت کے ساتھ وابستہ رہا۔

میں پنجاب یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر تھا جب ضیا الحق کے مارشل لا دور میں پابندی لگی۔ پابندی کا آغاز ہی ہماری یونین سے ہوا تھا۔ پہلے پنجاب میں پابندی لگی اور بعد میں دوسرے صوبوں میں۔ ہم نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ تھانے کچہری مقدمے جیل سب کو بھگتا۔ یونیورسٹی سے خارج کیے گئے۔ ہمارے سمیسٹر معطل کیے گئے۔ ہم نے بیرونی طالب علم کی حیثیت سے ایم اے کیا۔ رسٹی کیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد ایم بی اے کو مکمل کیا۔ چونکہ طلبہ یونین سے میرا گہرا تعلق تھا اس لیے میں نے صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ اس احتجاج کی قیادت کی۔

سوال: جماعت اسلامی نے جنرل ضیا الحق کا ساتھ دیا تھا۔ پھر جمعیت کیوں زیر عتاب آئی؟

امیر العظیم: جماعت اسلامی کے بارے میں یہ غلط تاثر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ضیا الحق کا ساتھ صرف چند دنوں کے لیے دیا گیا جب جماعت اسلامی قومی اتحاد میں شامل تھی۔ نوے دن کے لیے کابینہ میں شمولیت اختیار کی لیکن جب وعدے کے مطابق نوے دن میں انتخابات نہیں کروائے گئے تو جماعت اسلامی نے قومی اتحاد بھی چھوڑ دیا اور کابینہ سے بھی الگ ہو گئی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی نے ضیا الحق کے خلاف اے آر ڈی یا ایم آر ڈی کی تحریکوں میں حصہ نہیں لیا۔ جماعت اسلامی ضیا الحق کے ساتھ تو نہیں رہی لیکن افغان جنگ کی وجہ سے ان کے ساتھ کسی حد تک تعلق رکھا۔ افغانستان کی جنگ کی وجہ سے جماعت اسلامی تصور کرتی تھی کہ ملک کے اندر کوئی انتشار اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا نہ ہو کیونکہ روس ہماری سرحدوں پر کھڑا ہے، کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی سوچ تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ سوچتی تھی کہ طلبہ یونینز بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، یہ طلبہ کا حق ہے۔ اس پابندی کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔

سوال: گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی سوچ میں فرق تھا؟

امیر العظیم: جی یقیناً فرق تھا۔ یقیناً فرق تھا۔

سوال: طلبہ یونینز پر پابندی کے خلاف تحریک چلی تو دوسری تنظیمیں بھی آپ کے ساتھ تھیں۔ کیا ان تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوتی تھیں؟

امیر العظیم: جی بالکل ہوتی تھیں۔ یونینز پر پابندی لگنے سے پہلے ہم ایک دوسرے کے خلاف تھے۔ کہیں کہیں ہاتھاپائی کی نوبت بھی آ جاتی تھی۔ ان دنوں جو طلبہ تنظیمیں متحرک تھیں ان میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، انجمن طلبہ اسلام، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے علاوہ علاقائی تنظیمیں بھی تھیں۔ جئے سندھ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سب اپنے اپنے علاقوں میں کام کر رہی تھیں۔ کئی مخصوص علاقوں تک محدود تھیں، کوئی کوئی پورے صوبے میں تھی۔ صرف جمعیت ایسی تھی جو پورے ملک میں موجود تھی۔

سوال: جمعیت پر ایک الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ طلبہ سیاست میں تشدد اس نے شروع کیا۔ اسلحہ سب سے پہلے اس کے پاس آیا۔ آپ نے خود بھی تسلیم کیا کہ کبھی کبھی ہاتھاپائی کی نوبت آ جاتی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں آج بھی کہا جاتا ہے کہ جمعیت کے لڑکوں کا قبضہ ہے۔

امیر العظیم: دیکھیں، یہ الزامات ہیں۔ اسلحہ یا ہتھیار جو بھی جب بھی چلے، سب کے پاس موجود ہوتے تھے۔ اگر ڈنڈے اور سونٹے ہتھیار ہوتے تھے تو سب کے پاس ہوتے تھے۔ پھر گراری والا چاقو آیا تو وہ بھی سب کے پاس ہوتا تھا۔ پھر چھوٹا ریوالور آیا، پھر کاربین، پھر کلاشنکوف آئی، رفتہ رفتہ جیسے جیسے معاشرے میں ہتھیاروں کی ساخت تبدیل ہوتی گئی، وہ ہتھیار پان شاپ والوں کے پاس بھی آتے گئے، طلبہ کے ہاتھوں میں بھی آ گئے۔ البتہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جب جھگڑے ہوتے تھے تو کہیں پی ایس ایف اور جمعیت مقابل ہوتے تھے، کہیں این ایس ایف اور جمعیت آمنے سامنے ہوتے تھے، کہیں اے ٹی آئی اور جمعیت میں تصادم ہوتا تھا، کہیں ایم ایس ایف اور جمعیت لڑ پڑتے تھے۔ چونکہ جمعیت پورے ملک میں موجود تھی اس لیے اس کے مقابلے پر تنظیم کا نام بدل جاتا تھا۔ ہر جگہ جمعیت کے موجود ہونے کی وجہ سے تاثر ملتا تھا کہ یہ لڑنے والے لوگ ہیں۔ باقی بھی لڑتے تھے لیکن ان کی شناخت جمعیت مخالف ہونے سے ہوتی تھی۔ میں جمعیت میں رہا ہوں اس لیے مکمل ایمانداری سے بتا رہا ہوں کہ ہم نے کبھی زیادتی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر کبھی کہیں ہوئی بھی تو جمعیت میں احتساب کا نظام تھا۔ اس احتساب کے نتیجے میں لوگوں کے رکنیت تک ختم کر دی جاتی تھی، انھیں تنظیم سے نکال دیا جاتا تھا۔

دوسری تنظیموں کا معاملہ یہ تھا کہ جہاں انھیں اقتدار ملا، وہ پلاٹوں کے قبضے میں ملوث ہو گئے۔ فلموں اور سینما گھروں پر قبضوں میں پڑ گئے۔ اور چیزوں کے لیے بھی لڑائی جھگڑے کیے۔ ان کے برعکس جمعیت میں احتساب کا نظام تھا جو لوگوں کو بے قابو نہیں ہونے دیتا تھا۔

سوال: اگر طلبہ تنظیمیں ایسی جھگڑالو تھیں تو کیا ان پر پابندی کا فیصلہ اچھا نہیں تھا؟

امیر العظیم: جی نہیں۔ پابندی اس لیے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں جھگڑے ختم ہو جائیں۔ پابندی کے بعد جھگڑے زیادہ ہوئے۔ پابندی سے پہلے آپ دیکھ لیں کہ 1947 سے 1984 تک کتنے جھگڑے ہوئے، کتنی ایف آئی آرز ہوئیں، کتنے طالب علم قتل ہوئے اور پابندی کے بعد اگلے دس سال میں کیا کچھ ہوا۔ آپ کو زمین آسمان کا فرق ملے گا۔ پابندی کے بعد حالات زیادہ خراب ہوئے۔ یہ دلیل ایسی ہی ہے کہ جیسے الیکشن کے موقع پر کچھ جھگڑے ہوتے ہیں اور لوگ قتل کر دیے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر کیا الیکشن بند کر دیے جائیں؟ یہ تو ممکن نہیں ہے۔

میں چونکہ کھیل میں شامل رہا ہوں اس لیے میرا نقطہ نظر کچھ اور ہے۔ آپ شاید اس سے اتفاق نہ کریں لیکن آپ کے سامنے سوچ کا نیا دروازہ کھلے گا۔ آپ اس بارے میں خود بھی تحقیق کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی لگی ہے امریکہ کی وجہ سے۔ آپ کہیں گے کہ امریکہ کہاں سے آ گیا؟ امریکہ کو معلوم تھا کہ روس جب افغانستان سے واپس جائے گا تو اسلامی جوش اور ولولہ اس خطے میں سامنے آئے گا۔ اس جذبے اور جوش کو کیسے کنٹرول کرنا ہے، اس بارے میں منصوبہ بندی گئی۔ یعنی جہاد کو کیسے ختم کرنا ہے، اس کی پشت پناہی کرنے والے لوگوں کو کہاں کہاں ختم کرنا ہے۔ انھوں نے پاکستان میں کچھ اہداف مقرر کیے۔ ان میں سے ایک ہدف طلبہ یونینز تھیں کیونکہ انھیں اسلامی جمعیت طلبہ نظر آ رہی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے ایک شخص تیار کیا جس کا نام ڈاکٹر افضل تھا۔ وہ امریکہ سے پاکستان آئے اور جنرل ضیا الحق کے قریبی حلقے میں پہنچے۔ کیسے پہنچے، یہ بھی تحقیق کا موضوع ہے۔ اس وقت ہائیر ایجوکیشن کمشن نہیں بلکہ یونیورسٹی گرانٹس کمشن تھا۔ وہ اس کے سربراہ بنے اور جامعات میں اکھاڑ پچھاڑ کی۔ پھر انھیں وزیر تعلیم بنایا گیا۔ انھوں نے ضیا الحق کو شیشے میں اتارا کہ طلبہ یونینز کو ختم کیا جائے۔ پھر جامعات کے لیے باہر سے فنڈز آئیں گے، گرانٹس آئیں گی۔ ڈاکٹر افضل کی ان کوششوں کے نتیجے میں طلبہ یونینز پر پابندی لگائی گئی۔

اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو بھی یہ بات سمجھ آئی کہ ان کی قیادت میں عام آدمی کی شمولیت طلبہ یونینز، لیبر یونینز اور بلدیاتی کونسلرز کے ذریعے ممکن ہے۔ اس طرح الیکٹ ایبلز کا راستہ رکتا ہے۔ پاکستان کی سیاست چوہدریوں، مزاریوں، لغاریوں کے گرد گھومتی ہے۔ انھوں نے پابندی کی حمایت کی۔ اس وقت بھی قومی سیاست میں کوئی نیا خون آیا ہے تو وہ طلبہ سیاست سے آیا ہے۔ قومی اسٹیبلشمنٹ اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ یہ چاہتی تھی اور اب بھی چاہتی ہے کہ پاکستان کی سیاست پر صرف چند گھرانوں کی گرفت رہے۔ طلبہ سیاست کو ختم کرنے کے یہ دو بڑے مقاصد تھے۔

سوال: بات آگے نکل گئی ہے لیکن میں پھر بھی پوچھنا چاہوں گا کہ کالج یونیورسٹی کے بعد کوئی اور پیشہ کیوں اختیار نہیں کیا، سیاست میں کیوں آئے؟ بہت سے طالب علم رہنماؤں نے اس خار زار کا رخ نہیں بھی کیا۔

امیر العظیم:ہاں، جسے آپ سیاست کہتے ہیں، ہم اسے ایک قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سیاست کو صاف ستھرا اور نظریاتی بننا چاہیے۔ ہم نے بطور طالب علم بھی نظریاتی جدوجہد کی تھی۔ اسی مقصد کے لیے ہم نے سیاسی جدوجہد بھی شروع کی۔ اسی کے لیے ہم آج بھی کوشاں ہیں اور ہمیں کوئی پریشانی یا شرمندگی نہیں۔

سوال: آخری بات موضوع سے ہٹ کر لیکن حالات حاضرہ کی وجہ سے کرنا پڑ رہی ہے۔ اس وقت پوری قوم دو حصوں میں بٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک حصہ عمران خان کے ساتھ ہے اور دوسرا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ۔ لیکن جماعت اسلامی دونوں سے الگ اور لاتعلق کھڑی ہے۔ یا میں غلط سمجھ رہا ہوں؟ جماعت کس کے ساتھ ہے؟

امیر العظیم: جماعت اسلامی اصول کے ساتھ ہے۔ اس وقت بے اصولی کی سیاست ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی کا آج سے پانچ سال پہلے جو موقف تھا، آج بھی وہی موقف ہے۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ دھرنا اور احتجاج سیاسی حق ہے لیکن دھرنے کے ذریعے پورے نظام کو پٹڑی سے نہ اتاریں۔ جب عمران خان یہ کام کر رہے تھے، ہم تب بھی اسی موقف پر جمے ہوئے تھے۔ آج بھی ہمارا وہی موقف ہے۔ عمران خان کا اس وقت جو موقف تھا، آج انھوں نے اسے تبدیل کر لیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی حالات کے حساب سے بدل گیا ہے۔ سب بے اصولے لوگ ہیں۔ ہم اصول کے ساتھ تھے اور اصول کے ساتھ ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG