رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی لیبیا کی پارلیمان نے مصر کو فوجی مداخلت کی اجازت دے دی


فائل فوٹو

خانہ جنگی سے متاثرہ ملک لیبیا میں صورتِ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ ملک کے مشرقی علاقوں پر حکومت کرنے والے کمانڈر حفتر کی حمایت یافتہ پارلیمان نے مصر کو براہِ راست فوجی مداخلت کی منظوری دے دی ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں کی پارلیمان کا یہ اقدام طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) کی حکومت جسے اقوامِ متحدہ کی تائید بھی حاصل ہے، کے لیے ترکی کی حمایت کا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔

پیر کی رات پارلیمان سے منظور ہونے والی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مصر کی فوج کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ مصر اور لیبیا کے لیے کسی بھی خطرے کو محسوس کرے تو براہِ راست مداخلت کر سکتی ہے۔

قرارداد میں ترکی پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ طرابلس میں قائم حکومت کی حمایت کرکے لیبیا میں مداخلت اور اس پر قبضہ کر رہا ہے۔

مصر کے صدر جنرل (ر) عبد الفتح السیسی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر جی این اے کی حامی فورسز نے لیبیا کے اہمیت کے حامل شہر سِرت کی جانب پیش قدمی کی تو مصر لیبیا میں براہِ راست فوجی مداخلت کرے گا۔

مصر کی فوج نے بھی حالیہ ہفتوں میں اسپیشل فورسز اور نیوی کی مشترکہ مشقیں کی ہیں۔ فوج نے ان مشقوں کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی لیبیا میں تسلیم شدہ حکومت (جی این اے) نے مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کی لیبیا میں فوجی مداخلت کی تنبیہ کی مذمت کرتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام کو 'اعلانِ جنگ' قرار دیا تھا۔

جی این اے کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ عبدالفتح السیسی کی جانب سے ملک میں براہِ راست مداخلت یا باغی رہنما، مسلح ملیشیا یا کرائے کے فوجیوں کی حمایت کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو گی۔

لیبیا میں افریقی نوجوانوں کی فروخت؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:57 0:00

مصر نے سِرت پر جی این اے کی فورسز کے حالیہ حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سِرت کو لیبیا میں تیل کے ٹرمینلز کے لیے مرکزی راستہ قرار دیا جاتا ہے۔

مشرقی لیبیا پر حکومت کرنے والے کمانڈر خلیفہ حفتر کی فورسز نے رواں برس جنوری میں سِرت پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے لیبیا کی تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔

لیبیا اپنی آمدنی کے لیے زیادہ تر تیل کی برآمد پر انحصار کرتا ہے۔ طرابلس حکومت کے مرکزی بینک کو تیل کی برآمد کی بندش کی وجہ سے چھ ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تیل کی برآمد رواں سال کے شروع سے بند ہے۔ بندش سے پہلے لیبیا کی تیل کی روزانہ پیداوار 12 لاکھ بیرل تھی۔

تیل کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک لیبیا 2011 میں سابق فوجی حکمران معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔

لیبیا میں 2015 سے اقتدار کے لیے شدید رسہ کشی جاری ہے۔ ایک جانب اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت 'جی این اے' ہے جب کہ دوسری جانب فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی فورسز ایل این اے ہیں۔

ملک کے مشرقی حصے پر کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کا قبضہ ہے جب کہ دارالحکومت طرابلس سمیت ملک کے مغربی حصے پر اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت جی این اے کا کنٹرول ہے۔

کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کو مصر، متحدہ عرب امارات اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اپریل 2019 میں دارالحکومت طرابلس پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

لیبیا: بھیڑوں کی اون اتارنے کی رسم
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:44 0:00

دوسری جانب گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) کی حکومت کا سب سے بڑا معاون ترکی ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں ترکی نے لیبیا کی مدد میں کافی حد تک اضافہ کیا ہے جس کے بعد حکومتی فوج نے نہ صرف کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی فورسز کا دارالحکومت پر حملوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے بلکہ اب وہ ملک کے دیگر علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

سرکاری فورسز ملک کے ساحلی شہر سِرت کی جانب بھی بڑھ رہی ہیں جو کہ اہمیت کے حامل علاقہ ہے کیوں کہ یہاں لیبیا کے تیل کے اہم ذخائر بھی ہیں جب کہ اس پر کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی فورسز کا کنٹرول ہے۔

رواں برس جنوری سے ترکی نے لیبیا کے معاملات میں عملی دلچسپی لینا شروع کی تھی اور اس سلسلے میں ترک پارلیمنٹ نے لیبیا میں فوج بھیجنے کی منظوری بھی دی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے لیبیا میں اسلحہ بھیجنے کی ممانعت کے باوجود ترکی نے جی این اے کو ڈرون طیارے اور ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آغاز میں ترکی نے لیبیا میں جنگ بندی کے لیے مصر کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر یہ باغی فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کو بچانے کی کوشش ہے۔

لیبیا کے معاملے پر جون کے دوسرے ہفتے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔

بعدازاں ایردوان نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ حکومتی فورسز ساحلی شہر سِرت اور الجفرہ کو لیبیا کی نیشنل آرمی کے قبضے سے چھڑائیں گی۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ترکی کے امور کی ڈائریکٹر نگار کوکسیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ترکی جلد از جلد لیبیا کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ اور کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی فوجوں کو شکست دینا چاہتا ہے۔ ترکی کے خیال میں بحیرہ روم میں اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کے لیے لیبیا کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کلیدی ہے۔

گزشتہ برس نومبر میں ترکی نے جی این اے کے ساتھ بحیرہ روم میں سمندری حد بندی کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے پر یونان اور قبرص کو شدید اعتراض ہے۔ اس معاہدے کے تحت ترکی کو مزید سمندری علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کا حق مل گیا ہے۔ ترکی کے وزیر توانائی نے کہا تھا کہ ترکی جلد ہی سمندر میں معدنی ذخائر کی تلاش شروع کر سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماضی میں ترکی لیبیا میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس جماعت کے تانے بانے اخوان المسلمون سے ملتے ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے سینئیر فیلو کریم میزران کے مطابق ترکی اور عرب مملک کے درمیان اختلافات ایک عرصے سے جاری ہیں۔ اب لیبیا میں ترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔

ان کے بقول ترکی اپنے اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کے پیش نظر ہر حال میں لیبیا میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی فوجی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG