رسائی کے لنکس

logo-print

'گولہ اِدھر پھٹے یا اُدھر، تجارت بند ہو جاتی ہے'


فائل فوٹو

کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد نے نئی دہلی کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی میں پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے ردِ عمل میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت نے رواں ماہ اپنے زیر انتظام کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے اِس اعلان کے ساتھ ہی صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے سرحدی علاقے واہگہ پر تجارتی سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔

پاکستان کی وزارت تجارت کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان دو ارب 15 کروڑ امریکی ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس میں سے بھارت ایک ارب 80 کروڑ امریکی ڈالر کی مختلف اشیا پاکستان کو برآمد کرتا ہے جب کہ پاکستان سے 35 کروڑ امریکی ڈالر کا سامان بھارت بھیجا جاتا ہے۔

درآمد اور برآمد سے وابستہ تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بندش کو پریشان کن قرار دیا۔ ایوان صنعت و تجارت لاہور کے سابق صدر عبد الباسط سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عبد الباسط نے کہا ہے کہ پاکستان آج تک بھارت کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے کھل کر کاروبار نہیں کر سکا۔ جب تک کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی بھی کاروباری گروپ کھل کر تجارت نہیں کرنا چاہتا۔

عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث تجارت کا بند ہونا مسئلے کا حل نہیں۔ اس سے دونوں ممالک کو نقصان ہو گا۔ ایک گولہ اِدھر پھٹے یا اُدھر، تجارت بند ہو جاتی ہے اور اب تو بات گولوں سے بھی آگے نکل گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی بندش کا فیصلہ پاکستان میں بیٹھ کر تو اچھا اور جذباتی لگتا ہے لیکن تجارتی حوالے سے یہ فیصلہ بہت غلط ہے کیونکہ علاقائی تجارت ہی ہمیشہ ملکوں کو آگے لے کر جاتی ہے۔ لیکن، بھارت نے جو کچھ کیا ہے ایسی صورت حال میں تجارت کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔

چیئرمین کسٹمز کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن امجد چودھری بتاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ابھی تک ابھی نندن کے واقعہ کے بادل نہیں چھٹے تھے کہ کشمیر کا واقعہ ہو گیا جس کا دونوں ملکوں کی تجارت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے امجد چودھری نے بتایا کہ عام دنوں میں جب دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ نہیں ہوتے واہگہ سے اٹاری اور اٹاری سے واہگہ سامان سے بھرے تقریباً 200 ٹرک آتے جاتے ہیں لیکن رواں سال فروری سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت تقریباً بند ہے۔ لہٰذا، بندش کے فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس میں بھارت کا زیادہ اور پاکستان کا نقصان کم ہو گا۔

امجد چودھری کے مطابق پاکستان بھارت کو سیمنٹ، جپسم، سبزیاں، کھجور، پھل اور نمک برآمد کرتا ہے جب کہ بھارت سے مختلف سبزیوں کے علاوہ سویابین، پلاسٹک دانہ، مختلف کیمیکلز اور کپڑا پاکستان آتا ہے۔ تجارت بند ہونے سے دونوں ملکوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو گا۔

کنٹرول لائن کے آر پار تجارت کی معطلی کے خلاف سری نگر میں مظاہرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:07 0:00

جب سے ابھی نندن کا واقعہ ہوا ہے تب سے بھارت نے ڈیوٹی کم نہیں کی جب کہ پاکستان نے بھی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث تجارت کم ہو رہی ہے۔

رواں سال فروری میں بھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حملے کے باعث تجارت بند ہو گئی تھی۔

بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کے باعث بھارت نے یک طرفہ طور پر پاکستان کا 'موسٹ فیورٹ نیشن' کا اسٹیٹس ختم کرتے ہوئے پاکستانی اشیاء پر 200 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔

تجارت کی بندش کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی دوستی بس سے مسافروں کی آمد و رفت بھی کم ہو گئی ہے۔

جمعرات کو بس معمول کے مطابق لاہور سے نئی دہلی روانہ ہوئی۔ ٹورزم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاہور سے نئی دہلی جانے والے مسافروں کی تعداد تین ہے جب کہ نئی دہلی سے لاہور آنے والی بس پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے کے قریب لاہور پہنچے گی اُس سے کتنے مسافر لاہور آتے ہیں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ادھر دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس بھی معمول کے مطابق جمعرات کو لاہور سے نئی دہلی روانہ ہوئی جس میں پاکستان ریلوے کے مطابق 62 مسافر سوار تھے۔

بھارتی شہر امرتسر اور پاکستان کے شہر لاہورکے درمیان فاصلہ صرف 50 کلو میٹر ہے اور ان ہی دونوں شہروں کے سرحدی علاقے واہگہ اور اٹاری سے پڑوسی ملکوں کے درمیان تجارت ہوتی ہے۔

مبصرین سمجھتے ہیں کہ جوہری طاقت رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے عالمی طاقتوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG