رسائی کے لنکس

کشمیر میں معمولاتِ زندگی مسلسل 48ویں روز بھی معطل


بھارت نے کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت پانچ اگست کو ختم کی تھی جس کے بعد ریاست میں پابندیاں عائد ہیں — فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی نیم خود مختار آئینی حیثیت ختم اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر عوامی سطح پر مزاحمت سے بچنے کے لیے پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

حکومت نے پانچ اگست کو آئین میں ترمیم کرکے ریاست کی نیم خود مختار حیثیت ختم کی تھی جبکہ اس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنا دیا تھا۔

مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے بھارت کے زیر انتظام اس خطے میں ہفتے کو مسلسل 48ویں روز بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہے۔

بعض علاقوں میں مخصوص وقت کے لیے سڑک کنارے مختلف اشیا بیچنے والے افراد اپنی دکانیں سجا لیتے ہیں
بعض علاقوں میں مخصوص وقت کے لیے سڑک کنارے مختلف اشیا بیچنے والے افراد اپنی دکانیں سجا لیتے ہیں

مقامی افراد سے ملنے والی معلومات کے مطابق صرف مخصوص علاقوں میں صبح کے اوقات میں اشیائے خور و نوش اور ضروریات زندگی کا دیگر سامان بیچنے والی دکانیں تین گھنٹے کھلتی ہیں۔

کئی علاقوں میں مخصوص وقت کے لیے خوانچہ فروش سڑک کنارے یا فٹ پاتھ پر اپنا مال بیچتے ہیں۔ مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جبکہ معمولاتِ زندگی نہ ختم ہونے والے تعطل اور تذبذب کی کیفیت کے باعث درہم برہم ہیں۔

انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز چند ایک علاقوں کے علاوہ پوری وادی میں بند ہیں البتہ لیںڈ لائن فون دو ہفتے قبل فعال کیے گیے تھے۔

سرینگر کے بعض علاقوں میں جمعے کو ایک مرتبہ پھر مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

شہر کی تاریخی جامع مسجد میں لگا تار ساتویں جمعے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے ساتھ وادی کے کئی دوسرے علاقوں میں حفاظتی بندش عائد کی گئی۔

جموں و کشمیر کے گورنر نے کچھ عرصہ پہلے اعلیٰ سطح تک کے تمام سرکاری اور نجی اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

بیشتر اسکولوں کے اساتذہ اور دوسرا عملہ ڈیوٹی پر تو حاضر ہو جاتا ہے لیکن والدین غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر بچوں کو اسکول بھیجنے سے کترا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وادی کے کئی علاقوں میں لوگوں نے از خود کمیونٹی اسکول کھول لیے ہیں جہاں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ افراد اور عام پڑھے لکھے لوگ مقامی بچوں کو رضاکارانہ طور پر پڑھا رہے ہیں-

سرینگر کے خانیار علاقے میں قائم کیے گیے ایک ایسے ہی اسکول کی طالبہ زہرا کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ اسکول نہیں کھل رہے جبکہ سب کچھ بند ہے۔

زہرا کا کہنا تھا کہ ہماری تعلیم کا وقت ضائع ہو رہا تھا پھر یہاں آگئے تو بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں بھی اساتذہ بہت اچھے ہیں۔

مقامی اصطلاح میں قومی دھارے میں شامل کہلائی جانے والی سیاسی جماعتوں اور علیحدگی پسند تنظیموں کے قائدین اور کارکن بھی بدستور قید ہیں۔

نیشنل کانفرنس اور چند دوسری جماعتوں کی طرف سے بھارتی حکومت کے اقدامات کے خلاف مسلسل بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے بیانات میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

استصوابِ رائے یا آزادی کا مطالبہ کرنے والی علیحدگی پسند جماعتوں اور ان کے قائدین نے مکمل خاموش ہیں۔ جس پر مقامی آبادی حیرت کا اظہار کر رہی ہے۔

مجموعی طور پر صورتِ حال مخدوش ہے ان حالات میں عام لوگوں کو توقع ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت اور پاکستان کو مل بیٹھ کر کشمیر کا مسئلہ افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے آمادہ کر لے گی۔

لوگوں کی نگاہیں آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کی طرف بھی لگی ہوئی ہیں۔ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ اس اجلاس کے دوران کشمیر کی صورتِ حال ضرور شرکا کی توجہ کا مرکز بن جائے گی۔

مقامی افراد کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو مسئلہ کشمیر کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔

تجزیہ کار پروفیسر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر پر محاذ آرائی سے باہر نکل کر مسئلے کو ایک ہی مرتبہ حل کر لینا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو بار بار اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہ پڑے۔

بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی طرح بعض مقامی لوگ بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر ایک اور جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

چند لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان سے جنگجو کشمیر کا رُخ کرکے مقامی عسکریت پسندوں کے ہمراہ لڑیں گے لیکن پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان گزشتہ دنوں اس حوالے سے بیان دے چکے ہیں کہ پاکستان سے کسی کا بھی کشمیر میں کسی پرتشدد کارروائی میں شریک ہونا پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

مقامی تجزیہ کاروں نے اسے اہم اور بالغ نظری پر مبنی بیان قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ نے کئی سیاسی مبصرین سے اس بارے میں بات کی تو ان کی یہ یکسان رائے تھی کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نے اس طرح کا بیان دے کر کشمیر دوستی کا ثبوت دیا ہے۔

مبصرین نے عمران خان کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں غیر مقامی عسکریت پسندوں کی آمد کشمیریوں کے مفادات کے منافی ہوگی۔

چند ایک نوجوان یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو مسلح جدوجہد ہی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG