رسائی کے لنکس

لیبیا میں قیامِ امن کی کوششیں، وزیر اعظم کا مستعفی ہونے کا اعلان


جی این اے کی حکومت کے وزیرِ اعظم فائز السراج نے ٹی وی پر مختصر خطاب نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے نیتجے میں سامنے آنے والی نئی حکومت کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ (فائل فوٹو)
جی این اے کی حکومت کے وزیرِ اعظم فائز السراج نے ٹی وی پر مختصر خطاب نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے نیتجے میں سامنے آنے والی نئی حکومت کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ (فائل فوٹو)

لیبیا میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ قیامِ امن کے معاہدے کے تحت وہ آئندہ ڈیڑھ ماہ میں مستعفی ہونے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔

تیل کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک لیبیا 2011 میں سابق فوجی حکمران معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔

لیبیا میں اقتدار کے لیے طویل عرصے سے شدید رسہ کشی جاری ہے۔ ایک جانب اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت 'جی این اے' ہے۔ جب کہ دوسری طرف فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) ہے۔ گزشتہ ایک سال سے جاری شدید خانہ جنگی کے بعد گزشتہ ماہ فریقین نے جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

فریقین اگست میں جنگ بندی اور جلد انتخابات کے اعلان کے بعد رواں ماہ مراکش میں امن مذاکرات کا آغاز کر چکے ہیں۔

بدھ کی شام کو جی این اے کی حکومت کے وزیرِ اعظم فائز السراج نے ٹی وی پر مختصر خطاب نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے نیتجے میں سامنے آنے والی نئی حکومت کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے پر تیار ہیں۔

فائز السراج نے مزید کہا کہ وہ نیک خواہشات کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اکتوبر کے آخر تک وہ اپنے تمام اختیارات آئندہ انتظامیہ کے حوالے کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں پر امن انداز میں نئے سربراہ کے تقرر، صدارتی کونسل اور انتظامیہ کو اختیارات منتقل کرنے کا طریقۂ کار طے کیا جا چکا ہے۔

فائز السراج نے مراکش میں مذاکرات میں ابتدائی اور قابلِ عمل تجاویز پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیا۔

لیبیا میں افریقی نوجوانوں کی فروخت؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:57 0:00

واضح رہے کہ مراکش میں فریقین کے وفود کی ملاقات کو 'لیبین ڈائیلاگ' کا نام دیا گیا تھا۔ ان مذاکرات میں جی این اے کی حکومت اور ایل این اے کے پانچ پانچ ارکان شریک ہوئے تھے۔

ان مذاکرات میں ملک کے اعلیٰ ترین اداروں میں تقرریوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔ جن میں لیبیا کے سینٹرل بینک، نیشل آئل کارپوریشن اور فوج کے سربراہوں کے ناموں پر تنازع تھا۔

خیال رہے کہ مراکش نے 2015 میں بھی لیبیا کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ اس کے بعد جی این اے کا قیام عمل میں آیا تھا۔

گزشتہ ماہ لیبیا پر قابض حریف حکومتوں نے فوری طور پر جنگ بندی اور جلد ہی قومی سطح پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کا اقوامِ متحدہ نے بھی خیرمقدم کیا تھا۔

ان اعلانات پر طرابلس میں قائم اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ اتحادی حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ملک کے مشرقی حصے پر قابض کمانڈر خلیفہ حفتر عبد الرحمٰن کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے دستخط کیے تھے۔

فائز السراج کی حکومت کے قیام کے بعد سے فریقین دسمبر 2015 سے عملی طور پر حالتِ جنگ میں تھے۔

ملک کے مشرقی حصے پر کمانڈر خلیفہ حفتر کی ماتحت فورسز کا قبضہ ہے۔ جب کہ دارالحکومت طرابلس سمیت ملک کے مغربی حصے پر اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت جی این اے کا کنٹرول ہے۔

کمانڈر خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی کو مصر، متحدہ عرب امارات اور روس کی حمایت حاصل رہی ہے۔ جب کہ دوسری گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ کا سب سے بڑا معاون ترکی رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG